۷۳ از ۱۰۰
ہوتے ۱۹۶۰ء میں ہم اپنے معمول کے مطابق حضور عالیہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور پاکؒ نے ارشاد فرمایا کہ کل رات کے دس بجے میں بابا رشید صاحب کے مکان میں آؤں گا میرے لیے کھانا تیار کرنا ہم سب دوست سرکارِ عالی سے اجازت لے کر لاہور پہنچے اور کھانا بابا رشید صاحب کے گھر تیّار ہُوا اور دسترخوان پر چن دیا گیا۔ جب رات کے ٹھیک دس بجے تو حضور سرکارِ عالی بنفسِ نفیس تشریف لائے اور کھانا تناول فرمایا۔ اور غائب ہو گئے۔
نیاز احمد قریشی کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ میرے والد غلام محمد صاحب کو کینسر کا پھوڑا تھا۔ کئی ڈاکٹروں حکیموں سے علاج کرایا۔ مگر آرام نہ آیا۔ حضور سرکارِ عالیؒ ملازمت کے سلسلہ میں ۱۹۲۸ء میں موچی دروازہ لاہور میں سکونت رکھتے تھے، ایک رات حضور سرکار عالیؒ اکبری منڈی میں ایک مجمع سے خطاب فرما رہے تھے کہ میرے بڑے بھائی محمد حسین نے اس مجلس میں شرکت کی اور وعظ کے بعد آپ کی خدمتِ اقدس میں عرض کی کہ میرے والد کو کینسر کا پھوڑا ہے۔ آپ اُن کے حق میں دُعا فرمائیں۔ حضور پاکؒ نے ربّ تعالیٰ کے حضور دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے، میں جب گھر پہنچا تو میرے والد صاحب کے کینسر کا پھوڑا پھٹ چکا تھا۔ اور صبح تک میرے والد صاحب رُو بہ صحت ہو گئے۔ یہ سرکارِ عالیؒ کی کرامت تھی۔
حضور سرکارِ عالی مرتبتؒ کے خاص مُرید سیّد ناصر علی شاہ صاحب شمس رقم کاظمی بیان کرتے ہیں کہ میری دُوسری شادی خانہ آبادی کے کچھ ایّام بعد حضورِ عالیؒ کی خدمتِ اقدس میں سلام عرض کرنے کے لیے حاضر ہُوا تو حضور اس وقت اپنی [ناخواندہ] پر تشریف فرما تھے۔ حضور پاک نے ارشاد فرمایا۔ ناصر شاہ جی آپ کو شادی مُبارک ہو اور پھر ارشاد فرمایا۔ اللہ تعاظم تعالیٰ آپ کو تین لڑکے یکّے بعد دیگرے عطا فرمائے گا جن کے نام میں رکھ دیتا ہُوں۔ سب سے پہلے جو لڑکا پیدا ہو اس کا نام ظہور احمد اور اس
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں