۷۲ از ۱۰۰
مطابق اس سے ملا اور کسی نے بھی کوئی بات غیر حاضری کے متعلق نہ پُوچھی۔ بلکہ ایک ساتھی نے آکر جمعدار سے کہا "بھائی نور حُسین کل جنرل صاحب نے آپ کی پریڈ سے خوش ہو کر آپ کو صُوبیدار بنا دیا ہے۔
"مُبارک ہو" اَب یہ جمعدار نور حُسین صاحب چپ سادھے ایک عجیب مسکراہٹ سے ان کی باتیں سُنتا رہا۔ اس کو یقین ہو گیا کہ تین ماہ تک حضرت شاہ صاحب نور حُسین کی جگہ فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ حالانکہ آپؒ انبالہ میں ہی ہوتے تھے۔ اس واقعہ سے صوبیدار نور حُسین کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اَب یہ صُوبیدار چھٹی لے کر دوبارہ انبالہ شریف آیا تو وہ صاحب جو حضرت شاہ صاحبؒ سے اکثر سوال کیا کرتے تھے وہاں موجود تھے جب یہ صُوبیدار نے اپنا واقعہ دُہرایا تو وہ شخص قدموں پر گر گیا اور عرض کرنے لگا حضرت آج یقین آ گیا ہے کہ مُرشد مرید سے کبھی بھی غافل نہیں ہوتا۔
۱۷ ستمبر ۱۹۵۵ء کو دربار شریف میں تھے کہ خطرناک سیلاب آ گیا۔ نو۔ نو فٹ پانی کی لہر یلغار کر رہی تھی اور پانی آہستہ آہستہ دربار شریف کی طرف بڑھ رہا تھا۔ حکومت لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا رہی تھی۔ دربار عالیہ میں فوجی جوان آتے اور کشتیوں کے ذریعہ لوگوں کو لے جانے کے لیے کہا گاؤں کی نظریں سرکارِ عالی پر لگی ہوئی تھیں۔ حضور نے ارشاد فرمایا اللہ پر بھروسہ کرو۔ چنانچہ حضورؒ اپنا عصا لے کر پانی کی طرف بڑھے پانی نے حضورؒ کے قدم مُبارک چُومے آپؒ نے اپنے دستِ مُبارک سے اپنے اعصا مُبارک کو پانی میں گاڑ دیا۔ دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ پانی تقریباً پندرہ فٹ پیچھے ہٹ کر اپنا رُخ بدل گیا۔
سیّد ذُوالفقار صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور سرکارِ عالیؒ ۱۹۳۹ء میں انبالہ سے اپنے وطن مالوف منڈیر سیّداں تشریف لائے اور پھر کبھی یہاں سے نہیں گئے۔ ہم سب دوست لاہور سے حضورؒ کی خدمتِ عالیہ میں ہر ماہ حاضر
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں