۶۶ از ۱۰۰
تشریف فرما تھے۔ میں نے شہزادہ اوّل صاحب سے درخواست کی۔ کہ وہ میری اس مرض سے شفایابی کے لیے حضور عالی سرکار سے دُعا کرائیں۔ چنانچہ شہزادہ اوّل صاحب اُسی وقت اندر گھر تشریف لے گئے۔ چند منٹ بعد میرے قلب سے آواز سُنی۔ کہ تکلیف کی جگہ ہاتھ پھیرو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ گلے فی الفور غائب ہو گئے۔
(۴) یہ اُن دنوں کی بات ہے۔ جب بندہ بسلسلہ مُلازمت شہر سیالکوٹ میں رہائش پذیر تھا۔ کہ میری دائیں ٹانگ میں تکلیف شروع ہو گئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی۔ کہ چلنا پھرنا ازحد مشکل ہو گیا۔ ڈاکٹری علاج سے بھی کوئی فرق نہ پڑا۔ بڑا پریشان تھا۔ تقریباً آدھی رات کے وقت حضور سرکارِ عالی مہربان بنفسِ نفیس میرے کمرے میں تشریف لاتے۔ خیر و عافیت دریافت کے بعد فرمایا۔ کہ ہمارے علم میں تو آپ کی ٹانگ میں کوئی تکلیف نہیں۔ اور فرمایا اُٹھ کر کمرے میں دو چکر لگاؤ۔ ابھی میرا دُوسرا چکر ختم نہ ہُوا تھا کہ حضور سرکارِ عالی کمرے میں نہ تھے اور نہ ہی میری ٹانگ میں کوئی تکلیف تھی۔
(خلیفہ چودھری خوشی محمد جالندھری)
اکتوبر ۱۹۵۰ء میں راقم کتاب ہٰذا اور میرے چھوٹے بھائی سیّد امجد علی شاہ صاحب دونوں نے حضور سرکار عالیؒ سے عرض کی کہ ابّا جی ہم نے طارق بن زیاد کا ڈرا[ناخواندہ] ریڈیو پر سُننا ہے اور ریڈیو کی بیٹری ڈسچارج ہو گئی ہے حضور نے فرمایا بیٹا ریڈیو لگاؤ جب ریڈیو لگایا تو ریڈیو کی آواز بڑی دھیمی تھی حضور پاکؒ نے اپنے دستِ مبارک سے ریڈیو کی بیٹری کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے بیٹری تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے چار[ناخواندہ] ہو جا حضور کے ان الفاظ کے بعد ریڈیو کی آواز اُونچی ہو گئی یُوں معلوم ہوتا تھا کہ بیٹری چارج ہو گئی ہے اس سے قبل تو ہم ہفتہ عشرہ کے بعد ریڈیو کی بیٹری سیالکوٹ سے چارج کرایا کرتے تھے اس دفعہ بیٹری سرکارِ عالی کی کرامت سے پُورے سترہ روز کام کرتی رہی۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں