۶۵ از ۱۰۰
ایک عیسائی کھانا کھا رہا ہے۔ اس کی پیالی لے لو اور دربار کے باہر جا کر علیحدہ رکھ دئیں اس واقع کو کرامت سمجھتا ہوں۔
کوئی دِن ایسا نہ گذرتا تھا۔ کہ حضور سرکار عالی سرکار۔ محبوب ذات مصدرِ تجلیات سے متعدد کرامتیں ظہور پذیر نہ ہوتی ہوں۔ یہ چند کرامتیں ہیں۔ جن کا تعلق میری اپنی ذات سے ہے
(۱) بندہ نے ماہ نومبر ۱۹۳۶ء انبالہ چھاؤنی میں حضور عالی سرکار منبعِ رشد و ہدایت سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہونے کی سعادت حاصل کی۔ بیعت لینے کے ہی بعد اُسی دن حضور محسنِ اعظم اور ہادیٔ اکبر نے بھری مجلس میں بندہ کی طرف ایک عجیب انداز میں دیکھا۔ بندہ پر فی الفور رقّت طاری ہو گئی۔ آنسوؤں کا طوفان اُمڈ آیا۔ رقت کسی وقت کم۔ کسی وقت بند اور کسی وقت زیادہ ہو جاتی۔ کم و بیش دو دن یہی حالت رہی۔ اِن دنوں سیّد حیدر شاہ صاحب کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ وہ منظر اس وقت بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ کہ ہم دونوں ایک دروازے کو پکڑے کھڑے ہیں اور دونوں کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔
(۲) ایک دفعہ یوں ہوا۔ کہ میں دربار شریف منڈیر سیّداں سے اپنے گھر جالندھر کو رخصت ہونے پر مُصر تھا۔ لیکن حضور عالی سرکار کو یہ بات پسند نہ تھی۔ اپنے ساتھ مجھے دربار شریف سے باہر لے آتے۔ دورانِ گفتگو میرے چہرے پر ایک نظر ڈالی۔ میں نے اپنے پیٹ میں کچھ گرانی محسوس کی۔ اور آن واحد میں پیچس کی مرض میں مبتلا ہو گیا۔ اور دربار شریف میں کئی دن اس مرض کا شکار رہا۔
(۳) ایک دفعہ دربار شریف منڈیر سیّداں میں قیام کے دوران بندہ کے گلے پڑ گئے یہ گلے کی ایک بڑی تکلیف دہ مرض ہے۔ جب روٹی کھائی نہ جاتی تھی۔ تو چاول کھانا شروع کیے اس کے بعد دُودھ پینا بھی مشکل ہو گیا۔ شہزادہ اوّل صاحب میرے لیے دُودھ کا ایک گلاس لائے۔ میں یہ دُودھ نہ پی سکا۔ حضور مخزنِ فیوض و برکات اُس وقت اندرون خانہ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں