۵۸ از ۱۰۰
حضور سرکارِ عالی کی باتیں کرتے رہے۔ ان کی باتیں میرے دل میں گھر کر گئیں اور میرا شوقِ محبت اتنا بڑھا کہ ہر پندرہ دنوں کے بعد دربار شریف آتا رہا۔
۱۹۵۰ء ہی کا واقعہ ہے کہ سرکارِ عالی دربارِ اقدس کے صحن میں کھڑے کسی سائل کا سوال سُن رہے تھے کہ یکایک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی لیکن یہ دیکھ کر میں حیران تھا کہ سرکارِ عالی اور ہم سب مریدین جس جگہ کھڑے ہیں، بارش کا ایک قطرہ بھی وہاں نہ گر رہا تھا۔ یہ حضور کی کرامت ہے۔
۱۹۵۰ء ہی کا واقعہ ہے کہ میرا دوسرا لڑکا طاہر حسین کرمانی جو بفضلہٖ تعالیٰ اب تک قیدِ حیات ہے بیمار ہوا اور بالآخر اس پر نزع کی کیفیت طاری ہوئی۔ یہ حالت دیکھ کر اُس کی والدہ نے اپنے باپ سے کہا کہ تسبیح پر استخارہ کریں۔ انہوں نے تین مرتبہ استخارہ کیا اور ہر [ناخواندہ] یہی کہا کہ اس کا وقت پُورا ہو چکا ہے۔ اُن کا استخارہ کبھی غلط نہیں ہوتا تھا۔ تلاوت کلامِ پاک بہت دیر سے جاری تھی۔ میں خاموش بیٹھا ہوا تھا کہ طاہر کی والدہ نے مجھے جھنجھوڑا اور کہا کہ آپ کہا کرتے ہیں کہ "میرے سرکارِ پاک کا کسی بات میں بھی کوئی ثانی نہیں۔ میں نے کہا بے شک۔ وہ کہنے لگی طاہر جا رہا ہے۔ میں طیش میں آ گیا اور کہا اس بچے کے لیے اتنی سی بات پر، تو سرکارِ عالی کو آزمانا چاہتی ہے؟ میں جلد ہی اُٹھا اور دربارِ اقدس کی طرف دست بستہ کھڑے ہو کر عرض کی "حضور پاک میں نہیں، یہ عورت آزمانا چاہتی ہے" اسی وقت حضور سرکارِ عالی کی تشریف آوری ہوئی۔ باطناً طاہر حسین کی لاش کفن میں لپٹی ہوئی دکھائی دی۔ حضور سرکارِ عالی نے فرمایا "طاہر اُٹھو" طاہر اس طرح اُٹھا جیسے کوئی [ناخواندہ] کا تختہ اُٹھتا ہے۔ حضور پاک نے انگشتِ شہادت پاک سے اشارہ فرمایا۔ مُنہ سے کفن ہٹ گیا اور طاہر زندہ سلامت اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا۔ اب کفن کی بجائے وہ لباس میں تھا۔ حضور سرکارِ عالی نے فرمایا "جاؤ اپنے باپ کے پاس"۔ میں نے سرکارِ عالی کی خدمت میں عرض کی حضور! یہ باطن تھا اس کا ظاہر بھی ہونا چاہیئے۔ میں اور میری بیوی اور
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں