۵۷ از ۱۰۰
عورت تھی اور جس پر مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ دعوے کیا تھا کہ اس کا نکاح اس کے ساتھ عرش پر ہوا ہے لیکن اس نیک سیرت عورت نے جھُوٹے دعوےٰ دار کے دعوے کو جھُوٹا ثابت کر دیا۔
حضور سرکارِ عالی حضرت محبُوبِ ذات کی کرم نوازی سے مجھے حضورِ امام آخر الزماں، پنجتن پاکؑ اور حضرت غوثِ اعظم سیّد عبدالقادر جیلانیؓ کا دیدارِ پاک ہوا۔ حضور کی دعا سے میری تمام جائیداد کی الاٹمنٹ ہوئی۔
اس دربارِ عالی سے مُردہ دل آنِ واحد میں زندہ ہوتے۔ ہزاروں خارش بیماروں کو آنِ واحد میں شفا ہوئی۔ بے اولادوں کو اولاد، بے رزقوں کو رزق، بے [ناخواندہ] کو راہ اِسی دربار پاک سے ملی۔ میری سرکار کا فیض فی سبیل اللہ ہے۔ کسی سائل سے کسی قسم کا عوضانہ نہیں لیا جاتا حضور پاک کا لنگر ہر دم جاری ہے۔ کبھی سائل کو خالی ہاتھ [ناخواندہ] لوٹاتے۔ بیواؤں، ناداروں اور یتیموں کی دل کھول کر امداد کرتے ہیں۔
حضور سرکارِ عالی رشتہ داروں کی خفی طور پر امداد فرماتے اور کسی کے لیے دل [ناخواندہ] رنجش نہ رکھتے خواہ وہ آپ کی مخالفت ہی کرتے۔
حضور کے چار لال ہیں جن کے آگے تیرہ ستارے ہیں ان کا کام بھی خدمتِ مخلوق ہی ہے۔
خلیفہ سیّد شبیر حسین کرمانی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۵۰ء میں خلیفہ [ناخواندہ] عبدالوحید شاہ صاحب کی وساطت سے دربارِ مقدّس منڈیر مُعلّےٰ میں حاضر ہوا۔ [ناخواندہ] کے خُلق کا قلب پر اتنا اثر ہوا کہ بغیر بیعت کے یہاں سے نہ جا سکا۔ اس کے بعد [ناخواندہ] کے خلیفہ اعجاز الٰہی صاحب میرے پاس راولپنڈی آئے اور میرے ساتھ ساری [ناخواندہ]
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں