۵۶ از ۱۰۰
کو بہتر محسُوس کرنے لگی۔ میں صبح تک بالکل تندرست ہو گئی اور صبح ہی صبح لاہور سے عازمِ دربار ہوئی اور جمعۃ المبارک کی مبارک نماز یہیں دربارِ عالیہ میں آ کر ادا کی۔ یہ حضور سرکارِ عالی حضرت محبُوبِ ذات کی کرامت ہی تھی کہ مجھے موت کے مُنہ سے کھینچ کر نئی حیات بخشی۔
۱۹۴۷ء کو ہجرت کر کے ہم لاہور پہنچے۔ یہاں ہماری مالی حالت بہت خراب ہو گئی۔ رشتہ داروں نے ٹھکرا دیا۔ تب ہم پیر سیّد ناصر شاہ صاحب کی وساطت سے مَیں اور میری بیوی جو بہت سخت بیمار تھی، نوزائیدہ لڑکے کے ہمراہ (جسے ڈاکٹر سمیع اور لیڈی ڈاکٹر قریشی نے لاعلاج قرار دے دیا تھا) منڈیر سیّداں میں حضور سرکارِ عالی حضرت محبُوبِ ذات کی خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوئے اور شرفِ بیعت حاصل کیا۔ سرکار عالی حضرت محبُوبِ ذات نے لڑکے کے متعلق فرمایا کہ "جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اسے کوئی نہیں چھین سکتا"۔ اور حضور کی دُعا سے آج میرا لڑکا برسرِ روزگار اور صاحبِ اولاد ہے۔
ایک روز سرکارِ عالی ہمارا انتظار ڈیوڑھی میں کھڑے فرما رہے تھے۔ ہمیں دیکھ کر فرمایا "جس کا کوئی نہ ہو اس کا اللہ ہوتا ہے"۔ سرکارِ عالی نے مجھ پر ظاہری و باطنی کرم نوازیاں فرمائیں۔
میری وساطت سے برادری کے بہت سے لوگوں کی مشکلات دربارِ عالیہ سے حل ہوئیں اور مرزا غلام احمد قادیانی جس نے نبوّت کا جھُوٹا دعوےٰ کیا تھا اس کی سگی بھتیجی حمیدہ بیگم نے بھی حضور کی بیعت کی۔ اس کے علاوہ محترمہ مہدی بیگم جو نہایت پاکیزہ اور شریف
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں