۵۵ از ۱۰۰
تو ہو بہو وہی صُورت تھی جو مجھے بچپن میں نظر آئی۔ یہ مجھ پر حضور سرکارِ عالی حضرت محبوب ذات کی ہی مہربانی تھی۔
تقریباً ۱۹۵۰ء کا ذکر ہے (اُن دنوں مطلوب شاہ صاحب کی والدہ بھی آئی ہوئی تھیں) انہوں نے حضور سرکارِ عالی محبُوبِ ذات سے التجا کی کہ یا سرکار ہمیں کوئی زیارت کرائیں۔ سرکارِ عالی نے ہمیں بھی طلب کر لیا۔ اور ناقابلِ فراموش مشاہدہ کرایا۔
میں دیکھ رہی تھی کہ حضور سرکارِ عالی کا چہرہ چمکنا شروع ہو گیا اور ہر طرف نور ہی نور ہونے لگا۔ ناقابلِ فراموش روشنی پھیل گئی۔ لیکن میں آنکھیں کھول کر دیکھ رہی اور محسوس کر رہی تھی کہ تمام صحن بھرا ہوا ہے اور نور کی چاندنی پھیلی ہوئی ہے۔
ہمارا مکان گرنے والا تھا۔ لہٰذا دوبارہ مرمت شروع کروا دی۔ لیکن مرمت کے شروع ہوتے ہی میں بیمار پڑ گئی اور اتنی بیماری آئی کہ میں چارپائی کے ساتھ ہی چمٹ کر رہ گئی۔ گھبراہٹ میں رات دن بسر ہوتے۔ ایک جمعرات کو میں نے حضور سرکار عالی حضرت محبوبِ ذات کا مشاہدہ کر کے التجا کی کہ یا مہربان مجھے اتنی شفا دیں کہ صبح میں جمعۃ المبارک کی نماز دربارِ عالیہ میں ادا کر سکوں۔ یہ کہہ کر میں سو گئی اسی رات کو خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ دو عورتیں جن کی شکلوں سے کراہت ٹپکتی تھی میرے سامنے آ گئیں۔ مجھے چڑیلیں معلوم ہوئیں۔ میں بہت ڈر گئی لیکن اسی اثنا میں میں نے حضور سرکارِ عالی حضرت محبُوبِ ذات کو سنہری تخت پر جلوہ افروز دیکھا۔ ہر شے سنہری تھی، نورانی تھی۔ میں نے گڑگڑا کر بارگاہِ محبُوبیت میں التجا کی کہ۔
"سرکار مجھے ان سے بچانا"
حضور سرکارِ عالی نے اپنا ہاتھ اوپر اُٹھایا۔ اور ہاتھ اُٹھتے ہی دونوں چڑیلیں غائب ہو گئیں۔ اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔ آنکھ کے کھلنے کی دیر تھی کہ میں اپنے آپ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔