۴۸ از ۱۰۰
اور تمام لوگ ڈر گئے اور باہر کی طرف بھاگے۔ ابراہیم صاحب اس وقت تک ہوش میں آ گئے اور کہنے لگے ڈرو مت میں زندہ ہو گیا ہوں۔ بچوں کی آہ و بکا سن کر میری سچی سرکار کو ترس آ گیا۔ مجھے دوبارہ زندگی ملی ہے۔ دو دن بعد ابراہیم صاحب دربار شریف حاضر ہو کر سجدہ شکر بجا لائے اور مندرجہ بالا داستان حضور سرکار عالی کو سنائی۔
۶ - محمد یُوسف امرتسری مرید کباڑیے کا کام کرتا تھا۔ ایک شخص پرانا لوہا بیچنے کی خاطر اس کو اپنے مکان پر اندرون بھاٹی گیٹ لے گیا۔ محمد یُوسف ایک کمرے میں لوہا اکٹھا کر رہا تھا کہ دفعتہ کمرے کی چھت اس پر آن گری۔ یوسف صاحب سینکڑوں من ملبے کے نیچے دب گئے۔ محلے والوں نے ملبہ ہٹا کر آدھ پون گھنٹے کے بعد یوسف صاحب کو باہر نکالا اور ہسپتال لے گئے ہوش آنے پر ڈاکٹر صاحب نے پڑتال کے بعد بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور ان کو گھر جانے کی اجازت دے دی۔ یوسف صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ سینکڑوں من ملبے کے نیچے بیہوشی کے عالم میں حضور سرکار عالی کو دِل ہی دل میں پکار کر التجا کرتے رہے کہ ان کو بچا لیا جاوے ان کی چھوٹی چھوٹی عیالداری ہے اور کمانے والا دوسرا کوئی نہیں انہوں نے مشاہدہ میں دیکھا کہ حضور پاک فرما رہے ہیں کہ یوسف تم مرو گے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری عمر بڑھا دی ہے۔ تمہارے چھوٹے چھوٹے بچوں پر رحم آ گیا ہے اور تمہاری پکار قبول کر لی ہے۔ یوسف نے یہ بھی بتایا کہ ان کو حضور سرکارِ عالی ذی شان پر پُورا پُورا اعتماد اور یقین تھا کہ حضور پاک اس کی پکار پر اسے ضرور نئی زندگی عطا فرمائیں گے۔
ایک مرتبہ لنڈی کوتل میں ایک چیونٹی حضور سرکار عالی ذی شان کے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں