۴۷ از ۱۰۰
گیا میں نے دیگر مزدوروں کے ہمراہ جلدی جلدی مٹی ہٹانی شروع کی۔ بڑی دیر کے بعد ہم اکرم کو تلاش کرنے اور اس کو مٹی کے نیچے سے نکالنے میں کامیاب ہوئے جب اس کو کھینچ کر باہر نکالا تو وہ بے جان تھا۔ نبضیں بند۔ سانس بند اور رنگ پیلا زرد ہو چکا تھا، چارپائی پر ڈالا، حضور سرکار عالی لوگوں کی چیخ و پکار سُن کر دربار شریف سے جائے حادثہ پر تشریف لے آئے۔ کافی دیر تک چارپائی کے قریب کھڑے اکرم کو تکتے رہے بالآخر اکرم نے آنکھیں کھول دیں اور اس کا تنفس جاری ہو گیا۔ حضور پاکؒ نے بڑی خوشی کے لہجے میں ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اکرم بچ گیا ہے اُسکو دُودھ اور گھی پلایا گیا۔ چند ہی دن میں وہ مکمل صحت یاب ہو گیا۔ اُس نے بعد میں بتایا کہ اس کی رُوح کو نکال کر کہیں لے گئے تھے۔ حضور سرکار عالی وہاں تشریف لائے اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اکرم کی رُوح واپس کر دو جس سے مجھے دوبارہ ہوش آ گیا۔
۵ - شیخ محمّد ابراہیم صاحب نقشہ نویس ساکن موچی دروازہ لاہور نے دوبارہ زندگی ملنے داستان خود اپنی زبان سے میری موجودگی میں اس طرح حضور سرکار عالی کو سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فوت ہو گئے۔ ان کی اہلیہ نے انکو بتایا کہ سب گھر کے افراد آہ و بکا اور گریہ زاری کرنے لگے گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ رونے کا شور سُن کر محلے والے بھی آ گئے۔ فرشتے ابراہیم صاحب کو پکڑ کر لے گئے۔ ایک عالیشان دربار لگا ہوا تھا۔ حضور محبوب ذات کا دربار تھا فرشتے حضور محبوب ذات کے سامنے رجسٹر رکھتے اور مرنے والے کی منظوری لیتے، جب ایک رجسٹر میں ابراہیم صاحب کا نام پکارا گیا تو حضور پاک نے فرمایا کہ انکو ابھی رہنے دو۔ انکو دنیا میں واپس کر دو ان کے بچے بہت بے حال ہیں اور آہ و بکا کر رہے ہیں۔ یہ حکم صادر ہوتے ہی ابراہیم کی رُوح کو دوبارہ ان کے جسم میں داخل کیا گیا جسم میں حرکت شروع ہو گئی جسکو دیکھ کر بچے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں