۴۵ از ۱۰۰
کہ ہماری التجاؤں میں اخلاص نہیں ہوتا اس لیے ہماری دعائیں بہت کم قبول ہوتی ہیں اور ہمیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اخلاص کو خشوع و خضوع کا درجہ حاصل ہو تو بات بن جاتی ہے کرم ہو جاتا ہے سخی نہال کر دیتا ہے۔
۱۲ - ڈپٹی فضل الرحمان ساکن ایبٹ آباد پر محکمہ آبکاری میں پچیس ہزار کے غبن کا مقدمہ بن گیا۔ غبن تو ماتحت عملے نے کیا تھا مگر ڈپٹی صاحب انچارج ہونے کی وجہ سے دھر لئے گئے۔
مقدمہ عدالت میں آخری مرحلہ میں زیرِ سماعت تھا۔ ڈپٹی صاحب نے حضور سرکار عالی قدس سرہٗ کی بارگاہ میں جھوٹے مقدمہ سے نجات کے لئے عرض کی حضور پاک نے پوچھا۔ مقدمہ سے باعزت بری ہونا چاہتے ہو یا ملازمت برقرار رہے یا دونو۔ ڈپٹی صاحب کو اپنی بے عزتی کا بہت احساس تھا ان کے منہ سے نکل گیا کہ حضور صرف باعزت بری ہونا چاہتا ہوں۔ فیصلہ سنانے کی تاریخ آ پہنچی۔ ڈپٹی صاحب کا وکیل دلائل پیش کرنے عدالت کو جا رہا تھا راستے میں کسی نامعلوم سمت سے فائرنگ کی آواز آئی۔ دونوں پہیے پنکچر ہو گئے۔ عدالت میں وقت پر نہ پہنچ سکے ادھر مقدمہ پیش ہُوا سرکاری وکیل نے دلائل دئے۔ جج صاحب نے اس کے دلائل سنکر فیصلہ ڈپٹی صاحب کے حق میں سنا دیا ساتھ ہی غبن کا روپیہ ڈپٹی صاحب سے وصول نہ کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ ڈپٹی صاحب وکیل کی عدم حاضری کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ وکیل کی عدم موجودگی میں فیصلہ اپنے حق میں سنکر بے ساختہ پکار اُٹھے کہ یہ سرکار عالی نے کرم کیا۔ یہ خوشخبری سُن کر سرکار عالی کی بارگاہ [ناخواندہ] حاضر ہو کر تمام ماجرا سنایا تو حضور پاک نے انکشاف فرمایا کہ عدالت میں پہنچ کر فیصلہ ہم نے خود تمہارے حق میں کیا۔ اگر تمہارا وکیل حاضر ہو کر دلائل پیش کرتا تو تمہیں یہی گمان رہتا کہ مقدمہ وکیل نے جیتا ہے۔ سبحان اللہ!
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں