۴۴ از ۱۰۰
۱۱ - پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے پہلے کی بات ہے کہ یہ ناچیز بندہ جالندھر جانے کے لیے امرتسر سے گاڑی میں سوار ہوا۔ سوار ہوتے وقت پہلے سے وہاں موجود ایک جیب تراش نے میری قمیض کی جیب سے میرا بٹوہ اُڑا لیا۔ ٹکٹ بھی بٹوہ کے ساتھ ہی گیا۔ اس وقت میرے کندھے پر ایک وزنی پف سلائی مشین تھی۔ مشین کو گاڑی میں رکھنے کے بعد جیب کو ٹٹولا تو بٹوہ غائب تھا۔ دو منٹ بعد گاڑی چل پڑی۔ اب نہ ٹکٹ میرے پاس ہے اور نہ پیسے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ جالندھر اسٹیشن پر اُترتے ہی پکڑا جاؤں گا۔ جرمانہ ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں۔ پولیس مجسٹریٹ کے پیش کر کے سزا دلا دیگی اور مجھے جیل بھیج دیا جائیگا۔ مشین پولیس والے ہڑپ کریں گے۔ غیر حاضری کی وجہ سے نوکری بھی چلی جائیگی، گھر والوں اور دفتر والوں کو خبر تک نہ ہو گی۔ ان قیاس آرائیوں سے میں بدحواس ہو گیا۔ پچاس میل کا سفر نہایت بے تابی سے گذرا۔ کبھی خیال آتا کہ خدا کرے گاڑی آؤٹر سگنل پر رُک جائے اور میں وہیں گاڑی سے اُتر جاؤں اور مشین کو سر پر اُٹھا کر چار پانچ میل سفر پیدل طے کر لوں گا۔ سفر کے دوران بار بار ہاتھ جیب پر رکھتا مگر وہاں کیا رکھا تھا۔ سواریاں میری اس کیفیت کو دیکھ کر چہ میگوئیاں کرتیں مگر میری پریشانی کی وجہ دریافت کرنے کی خدا نے کسی کو ہمت نہ دی۔ سگنل گزر گیا مگر گاڑی نہ رُکی۔ بس اب کیا تھا، میری نظروں کے سامنے جیل اور قید کا منظر رقص کرنے لگا۔ سرکار کو مدد کے لیے پکارا۔ گاڑی پلیٹ فارم پر پہنچ گئی۔ حسبِ عادت ایک مرتبہ ہاتھ پھر جیب پر جا پڑا تو محسوس ہوا کہ ٹکٹ وہاں موجود ہے فوراً نکالا پڑھا بالکل وہی یا اس جیسا امرتسر سے جالندھر کا ٹکٹ تھا میری جان میں جان آئی بلکہ باچھیں کھل گئیں۔ میری متذکرہ بالا کیفیت کو دیکھ کر سرکار میری مدد کو پہنچے اور وہی ٹکٹ لا کر میری جیب میں ڈال دیا۔ قربانت شوم۔ اس واقعے سے مجھے یہ سبق بھی حاصل ہوا
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں