۲۸ از ۱۰۰
ماہ جون ۱۹۳۶ء میں سرکارِ عالیؒ چھوٹی لال کرتی شہر انبالہ میں اقامت گزیں تھے تو ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔ کہ ایک مردِ قلندر حاضرِ خدمتِ اقدس ہُوا۔
سرکارِ عالیؒ نے بوجہ گرمی اپنی دستار مبارک سر اقدس سے اُتار کر اپنے داہنی طرف رکھی ہوئی تھی۔ اس مردِ قلندر نے جو وقت کا غوث تھا۔ سرکارِ عالیؒ کی دستار مبارک کو اُٹھا [ناخواندہ] کر سرکارِ عالی کے سر اقدس پر رکھ کر اپنی جیب سے ایک روپے کا نوٹ نکال کر پیش کر کے عرض کرنے لگا کہ ایک دودھ کا گلاس منگوا دیجئے سرکارِ عالیؒ نے دودھ کا گلاس لانے [ناخواندہ] لئے سیّد میر حسرت علی شاہ صاحب (خلیفہ سوم) کو حکم دیا۔ سرکارؒ کے حکم پر میر صاحب نے مردِ قلندر کو دودھ کا گلاس لا کر دیا۔ مردِ قلندر نے دودھ کا گلاس مؤدبانہ طریقہ سے پیش کر کے عرض کی کہ حضور اِس کو نوش فرمائیں۔ سرکارِ عالیؒ نے دودھ کے گلاس میں سے ایک گھونٹ دودھ نوش فرمایا۔ بعد ازاں اس مردِ قلندر نے دودھ میں سے ایک قطرہ دودھ کا اپنی ہتھیلی پر ڈال کر پیا۔ باقی دودھ ایک ایک قطرہ تمام اہلِ مجلس کو تبرکاً دیا۔ بعد ازاں اس مردِ قلندر نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر تین دفعہ مار کر منہ سے یہ الفاظ پہلی دفعہ کہے کہ ہے [ناخواندہ] اعتراض کرنے والا۔ ملائک میں۔ یہ تاج ہم نے رکھا ہے۔ دوسری دفعہ یہ الفاظ کہے کہ ہے کوئی جنات میں اعتراض کرنے والا۔ یہ تاج ہم نے رکھا ہے۔ اور تیسری دفعہ یہ الفاظ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں