۲۷ از ۱۰۰
کے روضہ کی زیارت کرنے کے بعد اجمیر شریف روانہ ہو گئے۔ حضور سرکارِ عالیؒ نے مجھے بتایا کہ وہاں پر سجادہ نشین مجھے لینے کے لئے نہ آئے میں نے مراقبہ کیا تو خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے کہا کہ میں مدینہ منورہ گیا ہوا تھا۔ میں ابھی مجاوروں اور سجادہ نشین کو کہہ دیتا ہوں۔ کہ وہ آپ کی عظمت پہچانیں اور آپ کی شان کے مطابق رہائش اور خوراک کا انتظام کریں اس مراقبہ کے تھوڑی دیر بعد سجادہ نشین مع تمام مجاوروں کے میرے پاس آئے اور مجھے علیحدہ کمرہ دیا جس میں رہائش کا تمام سامان موجود تھا۔ اور دو وقت کھانا سجادہ نشین خود بھیجتے۔ میں نے یہاں تین چار ایام قیام کیا اور واپس دہلی آ گیا۔
سیّد میر حسرت علی شاہ صاحب خلیفہ سوم اللہ آبادی نے بیان کیا۔ کہ ۱۹۲۷ء میں حضور سرکارِ عالیؒ نے فرمایا۔ کہ جب میں دہلی گیا تو حضرت باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پاک پر حاضری دی۔ باقی باللہؒ صاحب نے مجھے کہا کہ میرے مزار پر جو مجاور ہیں وہ میری اولاد سے نہیں ہیں لوگوں کو غلط بتاتے ہیں کہ ہم صاحبِ مزار کی اولاد سے ہیں۔ میں نے یہ بات مجاوروں کو بتائی لیکن وہ نہ مانے میری طبیعت جوش میں آ گئی۔ میں نے حضرت باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کی قبر کے تعویز کو دونوں ہاتھ سے تھام لیا اور مجاوروں کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر تم باقی باللہ کی اولاد سے ہو تو اِن کے تعویز کو پکڑ کر بتاؤ یہ سن کر تمام مجاور خائف ہو گئے اور کسی کی ہمت نہ ہوئی۔ کہ باقی باللہ رح کے تعویز کو پکڑے۔ حالانکہ حضور سرکارِ عالیؒ قدس سرہ العزیز کا نسبتی تعلق باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ سے نہ تھا۔ لیکن روحانیت میں آپ کا مقام اتنا بلند تھا کہ ہر صاحبِ مزار آپ کی قدر و منزلت کو سمجھتا۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں