۶ از ۱۲
اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو مقام محبویت سے نوازہ ہے یہ مقام وہ مقام ہے جو مقام فخر سے بلند ہے مقامِ فخر پر خواجہ معین الدین چشتیؒ۔ حضرت دادا گنج بخشؒ۔اور بہت سارے اولیا ء اللہ ہیں یہ مقامِ محبوبیت بہت ہی کم ہستیوں کے نصیب میں ہے محبو بِ ذات کے خلفاء حضرات بیان فرماتے ہیں کہ مقامِمحبوبیت صرف ۱۷ ہستیوں کو ملا ہے۔ ۱۷ اگست ۱۹۴۸ء کو سرکا ر محبو بِذاتؒ کے تمام مرید جو جس شہر یا جس جگہ پر تھے اُنکو غیب سے آواز سنائی دی کہ آپ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں کہ آپ لوگوں کے ہادی و رہبر یعنی محبوبِ ذات محبو بیت کے درجہ پر فائز ہونے والے ہیں لاہو ر میں آپؒ کے خلیفہ کے ڈیرہ پر ایک شخص جو باطنی طو ر پر لاہور کا گورنر تھا انکا نام مست باغ علی نے یہ خبر سنائی کہ آپ لوگوں کے پیر و مرشد حضرت محبوب ذاتؒ ایک نورِ مجرد ہیںچراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا اِس قسم کی خوشخبریاں حضرت محبوبِ ذات کے تمام مریدین جو پورے برے صغیر ہندو پاکستان میں پھیلے ہوئے تھے ملیں۔تمام مریدین مختلف جگہوں سے اور باطنی لوگ ڈیو ٹی والے وہ بھی مختلف جگہوں سے ایک مقرر دن میں دربار شریف پہنچ گئے اور حضرت محبوبِ ذات کی محبوبیت کی محفل میں شرکت کی جہاں آپؒ کو محبوبیت کا تاج پہنایا گئے۔آپؒ ۳۰ سال تک ہندوں میں شمع اسلام روشن کرتے رہے۔ آپؒ ہندوستان کا سفر پاکستان بننے سے پہلے کیا شاہد ہی کوئی ایسا شہر نہ ہو جہاں آپؒ نے تبلیغ اسلام نہ کیا ہو۔بنارس۔ انبالہ۔نیتی تال۔جبل پور۔الہ آبار۔الموڑو۔لکھنو۔لال کڑتی۔وغیرہ میں تبلیغ فرمائی۔آپؒ کی محفل میں ہندوں سکھ اورعیسائی جوق اور درجوق آتے ور ایمان کی دولت سے مالا مال ہوکر اپنے دلوں کی قندیل اسلام سے روشن کرکے واپس جاتے۔آپؒ ہر جگہ جمعہ مبارک کے خطبات دیتے اور مسلمانوں کو مومن بننے کی تلقین کرتے۔ آپؒ کے پاس ہر مذہب اور فرقے لوگ آتے اور جب واپس جاتے تو سب کا ایک دین ہوتا یعنی اسلام نہ اسمیں نہ فرقہ ہوتا اور کوئی مذہب۔آپؒ تمام صحابہ کرام اجمعین اور اہل بیعت دونوں کی احترام کی تلقین کرتے اور فرماتے اولیاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی اصلاح کے لئے آتے ہیں اور غوث پاکؒاولیاء اللہ کے سردار (یعنی امام)ہیں۔آپؒ نماز کے بعد بازاروں میں تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز کی تلقین کرتے۔آپؒ کئی متنازعہ مسائل کو حل کرتے۔ اکثر علما ء کرام بھی آپؒ کے پاس تشریف لاتے اور مختلف مسائل دریافت کرتے۔آپؒ سے کرامتیں بھی جاری رہی آپؒنے ہندوں کے لائے ہوئے لوھے کو پھونک مار سو نا کردیا اور تمام ہندو آپؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔آپؒ نے مردے کو زندہ کیا جسکو دیکھ کر بہت سارے ہندو مسلمان ہوئے۔ آپؒ کے ایک مرید حاجی روشن دین صاحب فرماتے ہیں مدینہ منورہ کے قیام کے دوران ایک رات کا ہمارے پیارے نبی ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ایک دستار اور قبا ہمارے پیارے نبی ﷺ کی جانب سے حضرت احمد حسین گیلانیؒ قبول کریں اور زیب تن فرمائیں چناچہ میں نے حکم کی تعمیل کی اور حج بیت اللہ کی سعادت سے واپس آکر دونوں تبرکات حضرت محبوب ذاتؒ کو پیش کیا اور آپ ﷺ کا پیغام دیا جس پر حضرت محبوب ذاتؒ نے اِن تبرکات کو بوسہ دیا اور آنکھوں سے لگایا۔یہ تبرکات آج بھی دربار شریف میں موجود ہیں۔
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں