۵ از ۱۲
آپؒ ۱۹۱۴ء سیالکوٹ واٹر ورکس میں ملازمت کرتے تھے آپؒ ایک نیا کنواں کو چیک کرنے کے لیے نیچے اُترے اور پانی کے اندر چلے گئے ایک گھنٹے تک آپؒ واپس نہیں آئے تو لوگ پریشان ہو گئے آپؒ کی تلاش میں غوط زن جانے والے ہی تھے کہ آپؒ پانی کی سطح پر نمودار ہوگئے۔ لوگوں نے جب یہ کرامت دیکھی تو آپؒ نے مُلازمت چھوڑ دی پِھر جب سیالکوٹ کے باہر حضرت مونگاولی شاہ کے مزار شریف تشریف لائے تو وہاں کے مُجاوِروں نے آپؒ کو یہاں رات گزارنے سے منع فرمایا لیکن آپؒ نے رات گذاری اور صبح مجاوِروں نے آپؒ کو زندہ سلامت دیکھا تو حیران ہو گئے کیوں کہ وہاں پر رات گذارنے والہ کبھی بھی صحیح سلامت نہیں مِلا۔ آپؒؒ پھر وہاں سے بھی تشریف لے آے راستے میں آگوگی کے مُقام پر سبز لباس میں ایک سفید بزرگ حضرت سیّد نا غوثِ آعظمؒ مِلے حضرت غوثِ آعظمؒ نے فرمایا آپؒ میری اولاد ہیں جہاں بھی جائیں گے ہم آپؒ کے ساتھ ہیں۔ پِھر آپؒ چالیس یوم تک لاہور کے قریب مسجد میں معتکف رہے آپؒ نے حضرت داتا گنج بخشؒ اور پھر حضرت پیر مکی سیّدنا عزیز الدین کے مزاروں پر حاضری دی۔ آپؒ چشمہ لگاتے تھے وہ چشمہ اِس لئے لگاتے تھے کہ ایک دفعہ آپؒ حضرت سیّد صوفؒ کی درگاہ سے باہر تشریف لارہے تھے اِس وقت قوالی ہو رہی تھی تب آپؒ کی نگاہ ایک بچے پر پڑی تو وہ بچہ بے ہوش ہو گیا پھر آپؒ نے چشمہ پہننا شروع کردیا۔ آپؒ شیخ عبد ارّحمٰن اینڈ برادرز کی کافی شاپ میں مینیجر کے طور پر ملازمت بھی کی۔ دورانِ مُلازمت آپؒ رات کو پہاڑوں اور جنگلوں کی خلوتوں میں اللہ تعالیٰ سے لو لگاتے تھے جہاں حضرت غوثِ پاکؒ نے ظاہری بیعت کرنے کے لیئے فرمایا جسکے لیئے آپؒ کو تردد ہوا ( اب کسی اور سے بیعت کرنا کیا ضروری ہے کیونکہ غوثِ پاکؒ نے تعلیم دی ہے) لیکن حضرت غوثِ پاکؒ نے ایک بڑی جماعت کا مشاہدہ آپؒ کو کراکر فرمائے کہ ان تمام لوگوں نے آپؒ سے فیض حاصل کرنا ہے اِس لیئے ظاہری طور بیعت کرنا لازمی ہے تاکہ اِن لوگوں کا شجرہ بیعت چلے چنانچہ آپؒ نے اپنے حقیقی ماموں محترم حضرت سیّدنا محمد فتح علی شہبازؒ سے بیعت کی۔ آپؒ انبالہ میں کافی عرصہ قیام فرمایا انبالہ میں لوگوں کو فیض دیا آپؒ کے پاس بے شمار فقراء کا اِجتماع رہتا ہر کوئی اپنا دامن لے کر آتا اور روشن نصیب لے کر جاتا کوئی دِن ایسا نہیں گذررتا سینکڑوں افراد کو ظاہری اور باطنی فیض نہ مِلتا ہو گا۔ آپؒ نے ۱۹۳۴ء تک انبالہ میں لوگوں کو دین اسلام کی روحانیات پہنچاتے رہے۔۱۹۳۴ء واپس اپنے گائو ں واپس آگئے۔ ایک سال کے بعد انبالہ تشریف لے گئے۔ بیماروں کو آپؒ پانی کو دم کرکے دیتے تھے اور مریض شفاء یاب ہوتے رہے۔آپؒ کے فیض کا چرچہ اتنا ہوا کہایک وقت میں سینکڑوں کی تعداد میں صرایاں پیش ہونے لگیں شفا ء کا فیضان اس قدر ہوا کہ انبالہ کے ڈاکٹروں نے حکام سے شکایت کی کہ چھاؤ نی میں ایک جادو گر آگیا ہے جسکی بدولت انکے کاروبار کو خاصا دھچکا لگا ہے حکام نے تو خیر کچھ نہیں کیا لیکن آپؒ نے خود لوگوں کو کہہ دیا کہ دم کیا ہوا پانی فلاں کنواں میں ڈال دیں اور اِس سے پانی لے جا کر مریضوں کو دیا کریں اللہ تعالیٰ شفا ء عطا فرمادے گا چناچہ ایسا ہی ہوا اور آج تک یہی ہورہا ہے اِس کنویں کا نام شاہ جی کا کنواں پڑگیا ہے۔ ۱۹۳۶ء میں آپؒ واپس اپنے آبائی گائوں منڈیر شریف لائے اور مستقل سکونت اختیار فرمائی۔
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں