۱ از ۱۲
آج میں اِ س بیسویں صدی کی بہت بڑی روحانی شخصیت حضرت محبوب ذات سید احمد حسین گیلانیؒ ذکر کررہا ہوں۔ آپؒ سے پہلےؒؒاللہ تعالیٰ نے ۱۶ محبوب دنیا کو عطا کیا اسمیں سے چودہ محبوب جن کو چہاردہ معصومین کہتے ہیں جن سے سب ہی واقف ہیں ہمارے پیارے نبی ﷺ اللہ کے حبیب ہیں یہ مقام کسی اور محبوب کو نہیں ملا۔ پندرویں اللہ کے محبوب حضرت شیخ عبدالقادرگیلانیؒ ہیں سولویں اللہ کے محبوب حضرت خواجہ سید نظام الدین اولیاء اللہ محبوبِ الہیؒہیں سترویں اللہ کے محبوب حضرت محبوب ذات سید احمد حسین گیلانیؒ ہیں چہاردہ معصومین میں آخری محبوب حضرت امام مہدیؒ جن کی ولادت ۱۵ شبعان ۲۵۵ ہجری یعنی ۱ اگست ۸۶۹ عیسوی میں ہوئی انکے بعد پندرویں محبوب حضرت شیخ عبدالقادرگیلانیؒ کی ولادت یکم رمضان ۴۷۰ ہجری یعنی ۲۲ فروری ۱۰۷۸ عیسوی میں ہوئی انکے بعد سولویں محبوب حضرت خواجہ سید نظام الدین اولیاء محبوبِ الہی کی ولادت ۲۷ صفر ۶۳۶ ہجری ۱۵ ا کتوبر یعنی ۱۲۳۸ عیسوی میں ہوئی اور سترویں محبوب حضرت محبوب ذاتؒ کی ولادت۱۲ ربیع الاول ۱۳۱۴ھ یعنی۲۰ اگست ۱۸۹۶ عیسوی میں ہوئی یعنی حضرت محبوب الہیؒ پیدائش کے بعد تقریباً ۶۵۸ سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا محبوب حضرت محبوب ذاتؒ کو بھیجا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبین کا مقام۔ مقامِ فقر سے اُوپر رکھا ہے تمام اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ نے مقامِ فقر عطا کیا ہے اس لئے تمام اولیاء اللہ کا مقام مقامِ فخر میں ہوتا ہے اور مقامِ محبوبیت کا مقام مقامِ فخر سے اُپر ہے اسی مقامِ فقر کو حاصل کرنے کے لیے حضرت علامہ اقبالؒ اولیاء اللہ کے مزاروں پر جا کر چلہ کشی بھی کرتے تھے تاکہ مقامِ فخر حاصل کرسکیں اسکے لئے حضر ت علامہ اقبالؒ نے حضرت شیخ مجددؒ کے مزار پر چلہ بھی کیا چلہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔
کی عرض یہ میں نے عطا فقر ہو مجھ کوآنکھیں مری بینا ہے و لیکن نہیں بیدار
آئی صدا سلسلہ فقر ہوا بندہیں اہل نظر کشورِ پنجاب ہے بیزار
تو علامہ اقبالؒ کو شیخ مجدد کی لحدسے آواز آتی ہے کہ فقر ہوا ہے بند یعنی مقام فخر کی تلاش تھی لیکن انکو نہیں ملا حضرت علامہ اقبالؒمقام فقر سے اشنا بھی تھے اور تلاش میں بھی تھے یہ بات اہل علم یا ظاہری علم والوں کو نہیں معلوم لیکن اہل نظر یا باطنی علم والوں کو معلوم ہے کہ مقامِ فقر اور مقامِ محبوبیت کیا ہے علامہ اقبالؒ محبوبیت کا مقام بھی جانتے تھے تبھی نظم التجائے مسافر میں درگاہ حضرت محبو بِ الہی کے لئے فرمایا۔
تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی مسیح وخضر سے اونچا مقام ہے تیرا
نہاں ہے تیری محبت میں رنگِ محبوبی بڑی شان بڑا احترام ہے تیرا
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں