حضرت محبوبِ ذاتؒ — حالاتِ زندگی
۶ از ۸
کی عرض یہ میں نے عطا فقر ہو مجھ کو آنکھیں میری بینا ہیں لیکن نہیں بیدار
آئی صدا سلسلہ فقر ہوا بند
علامہ اقبال مقامِ فقر کے لئے کئی درگاہوں پر چلا کشی کی مقامِ فقر حاصل ہو لیکن ناکامی ہوئی اور
حضرت محبوبِ ذاتؒ کی ایک نگاہ سے دل ذکر کرنا شر وع کردیتا تھا آنکھیں روشن ہوجاتی تھیں اور بغیر چلا کشی کے مقامِ فقر مل جاتا تھا ایک دفعہ آپؒ کے دربار میں آپ کے ایک مرید نے فرمایاکہ سرکار آپؒ کے لنگری لال شاہ جو دربار شریف میں لنگر پکاتے ہیں اور کئی میل دور سیالکوٹ سے پیدل اپنے سر پر آٹے کی بوری رکھ کر لاتے ہیں سرکار یہ اتنی محنت کرتے آپؒ اس پر اپنی نگاہ کرم کردیجیے آپؒ نے اپنی بھر پور نگاہ ڈالی اور اُسکے بعد وہ سیالکوٹ چلے گئے تھوڑی دیر میں لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ سرکار وہ لوگوں کو پتھر مار کر زخمی کررہے ہیںآپؒ نے فرمایا کہ اِسے لے آئو جب وہ آئے تو آپؒ نے دریافت کیا کہ تم لوگوں کو کیوں زخمی کررہے ہو تو انہوں نے فرمایا میں انسانوں کو تھوڑی زخمی کیا میںتو جانوروں کو مارا ہے آپؒ نے فرمایا کہ لال شاہ اب شہر کے قابل نہیں ہے اسکو مری کی پہاڑیوں میں چھوڑ دو اور وہاں یہی لال شاہ بہت بڑے ولی کے نام سے مشہور ہوئے اور صدر ایوب بھی حضرت بابا لال شاہ سے فیض لیتے تھے یہ وہی نظر کرم تھی جسکے لئے علامہ اقبال فرماتے تھے
نگاہ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں