۹۷ از ۱۰۰
آئے۔ حضرت ابو بکرؓ۔ حضرت عثمان غنیؓ جن کا قد ایک جیسا تھا، دونوں کی داڑھی مبارک لمبی، رنگ سفید و سُرخ مودب کھڑے نظر آئے۔ ان کے ساتھ ہی حضرت عمرِ فاروقؓ قد لمبا فربہ جسم رنگ سُرخ و سفید، داڑھی مبارک گھنی، چہرہ بارعب دکھائی دیئے۔ میں نے ان کی دل بھر کر زیارت کی۔ اس کے چند منٹ بعد حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علیؓ گندمی رنگ سُرخی مائل، درمیانہ قد، مضبُوط جسم، چہرہ گول، داڑھی مبارک چھوٹی اور گول تھی تشریف لا رہے تھے۔ میں نے بڑھ کر قدم بوسی کا شرف حاصل کیا پھر غنودگی سے ہوش میں آ گیا۔
ایک دوسرا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک بارات کے ساتھ جھنگ گیا۔ جھنگ سے گوجرہ روڈ پر بس بے قابو ہو کر اُلٹ گئی اور قلابازیاں کھاتی ہوئی ایک گہری کھڈ میں گری۔ میں اگلی سیٹ پر تھا۔ میں نے حضور سرکارِ عالیؒ کو پکارا تو آپ ایک ہی آن میں سامنے جلوہ نما ہوئے۔ میرے دل میں فوراً دو خیال پیدا ہوئے۔ کہ ایک آپ میری مدد کو پہنچے ہیں دوسرے شاید میری موت قریب ہے۔ مجھے کوئی چوٹ نہ آئی۔ میں نے ڈرائیور کے سامنے کا شیشہ توڑا اور اس میں سے تمام سواریاں بخیریت باہر نکل آئیں۔
اُسی وقت میری چھوٹی بیٹی عرفانہ کو مکمل واقعہ نظر آیا۔ جو کہ جھنگ سے تقریباً ۴۰ میل کے فاصلہ پر تھی۔ میرے گھر پہنچنے پر عرفانہ اور نفیسہ نے مجھے بتایا کہ حضور پُرنور سرکارِ عالی نے ہمیں آپ کے ایکسیڈنٹ کے بارے میں پہلے ہی سب کچھ دکھا دیا ہے۔ پورا واقعہ انہوں نے ٹھیک ٹھیک کہہ سنایا۔
ایک اور مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ ہماری بھینس بہت بیمار ہو گئی۔ اس کا کافی
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں