۹۶ از ۱۰۰
ماسٹر بشیر احمد عزیز ایم۔ اے بی ایڈ بیان کرتے ہیں کہ حضور سرکارِ عالی ہمہ صفت ہیں۔ ایک بحرِ بیکراں ہیں۔ میرے جیسا مبتدی اور ہیچ انسان بھلا آپ کی وُسعت اور گہرائیوں کو کیسے سمیٹ سکتا ہے۔ اِسے بیان کرنا اور بھی زیادہ دشوار عمل ہے اس لیے میں حضور سرکارِ عالی کے بارے میں صرف اتنا بتانے کی جسارت کر رہا ہوں جس میں میری رسائی ہوئی ہے۔ جس حد تک مجھ میں بتانے کی استعداد اور حوصلہ ہے۔ دوسرے اصحاب مختلف تجربہ کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے تضاد نہیں پیدا ہوتا بلکہ یہ تو آپ کے ہمہ صفت ہونے کی دلیل ہے۔
حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور خلفائے راشدین کی زیارت کی خواہش ہمیشہ میرے دل میں موجزن رہتی تھی۔ میں روزانہ حضور سرکارِ عالی کی خدمتِ اقدس میں التجائیں کرتا رہتا تھا۔ ایک دن مجھے نمازِ فجر کی دُعا میں ایسی غنودگی آئی کہ میں نے دیکھا کہ ایک قالین (جو بہت خوب صُورت اور منوّر تھا) آسمان سے (پہاڑی سڑکوں کی طرح) زمین تک بچھا ہوا تھا۔ تمام مخلوق دو قطاروں میں کھڑی بہت بے چینی سے سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہی تھی۔ میں اور راؤ مُحمد مختار صاحب ایم اے، بی ایڈ بھی اگلی قطار میں کھڑے ہو گئے۔ ایک شخص سفید لباس میں ملبوس راؤ صاحب کے پاس آیا اور اُسے پچھلی قطار میں کھڑا کر دیا۔ وجہ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ جو لوگ درُود شریف ننگے سر پڑھتے ہیں وہ اگلی قطار میں کھڑے نہیں ہو سکتے (اس واقعہ کے بعد میں نے راؤ صاحب سے پوچھا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ واقعی میں درود شریف ننگے سر بھی پڑھتا ہوں)
میں اگلی قطار میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ یہاں صحابہ کرام ضرور تشریف فرما ہونگے۔ چند قدم کے فاصلے پر ایک دراز قد، سفید عربی لباس میں ملبُوس داڑھی مبارک چھوٹی گھنگریالی، موٹے موٹے ہونٹ، رنگ سیاہ حضرت بلال حبشیؓ مسکراتے ہوئے نظر
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں