۹۱ از ۱۰۰
تقریباً دو صد آدمی موجود تھے۔ حضور نے مجھے آخری صف سے بُلوا کر اپنے پاس بٹھایا اور آمد کا مقصد دریافت کیا۔ میں بہت شرمندا ہوا کہ ایسی باکمال شخصیت کے بارے میں مَیں کیا سوچتا رہا۔ میں نے عرض کی حضور صرف دیدار کی خاطر آیا تھا۔
۱۹۴۰ء تا ۱۹۴۵ء گاہے بگاہے حاضری کا شرف حاصل ہوتا رہا۔ اس کے بعد انگلستان میں بھی حضور سرکارِ عالی حضرت محبُوبِ ذات کی کرم نوازی ہر وقت رہتی۔ ایک دفعہ میں اپنے کمرے میں امتحان کی تیاری میں مشغول تھا کہ حضور کی مخصوص خوشبو نے میری توجہ حضور پاک کی طرف مبذول کر دی۔ دیکھا کہ حضور سرکارِ عالی حضرت محبوبِ ذات کرسی پر تشریف فرما ہیں۔ میں نے قدمبوسی کی اور آپ کے ارشادات سے مستفید ہوا۔ اسی دوران میرے ایک پڑوسی کتاب واپس کرنے آئے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا تم کس سے باتیں کر رہے تھے جب کہ کمرے میں کوئی موجود نہیں۔ میں نے بات ٹال دی۔ جب پاکستان واپس آیا تو حضور پاک نے میرے کچھ بولنے سے قبل ارشاد فرمایا "ہم نے اپنی ڈائری دیکھی ہے آپ سے انگلستان میں تین بار ملاقات ہوئی"۔ اور حضور نے مندرجہ بالا واقعہ کے علاوہ دو دوسرے مواقع پر ملاقاتوں کا تذکرہ کیا جس سے میرا یقین کامل ہو گیا۔
۱۹۴۵ء کا ذکر ہے کہ میں حضور سرکارِ عالی کو بیمہ کروانے پر قائل کرنے آیا حضور نے مدعا بیان کرنے کو فرمایا۔ جب میں کھڑا ہوا تو فرمانے لگے اچھا ہم سمجھ گئے۔ آپ کو اس کام کے لیے رُکنا پڑے گا۔ لیکن تین دن بعد ہماری التجا پر حضور نے ہمیں (میرے علاوہ کچھ دوسرے حضرات کو بھی) حلقۂ غلامی میں شرفِ قبولیت بخشی اور اس طرح میں اپنی دونوں زندگیوں کا بیمہ کرا کے واپس لوٹا۔
۱۹۵۰ء میں مَیں بذریعہ طیّارہ انگلستان روانہ ہوا۔ راستے میں شمالی افریقہ کے ایک مقام [ناخواندہ] کے ہوائی اڈے کے قریب ہمارا ریڈیائی نظام خراب ہونے سے مواصلاتی
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں