۹۰ از ۱۰۰
ارشاد کے مطابق چونکہ میں آٹھ بجے لاہور پہنچ چکا تھا اس لیے میری پریشانی میں گوناگوں کمی ہو گئی۔ اگلی صبح جب چوکی پہنچا تو محرر ہیڈ کانسٹیبل نے بتایا کہ روزنامچہ گذشتہ روز ۱۱۔ بجے سے رُکا ہُوا ہے۔ کوئی رپٹ درج نہیں ہوئی۔ علاقہ میں کوئی چوری وغیرہ یا حادثہ نہیں ہوا۔ نہ ہی کسی افسر نے آپ کے متعلق پوچھا ہے۔ آپ اپنی چھٹی سے واپسی کی رپورٹ درج کر دیں لہٰذا رپٹ حاضری درج کر دی گئی۔ یہ ہے میرے آقا کی نظرِ کرم کا کرشمہ۔ دو یوم تک روزنامچہ ہی روکے رکھا۔ کوئی واردات یا حادثہ بھی نہ ہونے دیا حالانکہ روزنامچہ تھانہ ایک منٹ بھی روکا نہیں جا سکتا۔
میں نے اثنا عشری گھرانے میں آنکھیں کھولیں۔ اور ایک اثنا عشری گھرانے کی وساطت سے ہی دربارِ عالیہ میں حاضری ہوئی۔ میں مطلوب حیدر شاہ صاحب کے ساتھ دربارِ عالیہ میں حاضر ہُوا۔ حضور نے دلآویز تبسّم سے استقبال کیا اور ترقی و عافیت کی دعائیں دیں۔ آپ نے فرمایا "جاؤ جی اللہ تعالےٰ نے آپ کو سارے بنکوں کا افسر بنا دیا"۔ حالانکہ اس وقت میں امپیریل بنک میں ایک معمولی کلرک تھا حضور کی کرم نوازی سے اُسی لمحے سے میرے حالات تبدیل ہونے شروع ہو گئے اور چند دنوں بعد بنکنگ کی تربیت کے لیے مجھے منتخب کر لیا گیا۔
آپ حضورِ اکرمؐ سرورِ کائنات اور آئمہؑ مطاہرین کے اخلاقِ حسنہ کا کامل نمونہ تھے۔ عجز و انکساری بھی اُتم درجے پر تھی۔ اس مختصر سی نشست کے بعد مجھے یہ خیال گذرا کہ حضور سرکارِ عالی حضرت محبوبِ ذات کے متعلق اتنا کچھ سُنا تھا لیکن حضور نے میرے آنے کا مقصد دریافت نہیں فرمایا۔ اسی رات کو ایک نشست ہوئی جس میں
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں