۷۴ از ۱۰۰
کے بعد جو پیدا ہو اس کا نام منظور احمد اور اس کے بعد جو تولّد ہو اُس لڑکے کا نام فدا حُسین ہے۔ میں نے حضورؒ پاک کے ارشاد کے مطابق اپنے تینوں لڑکوں کے نام رکھّے
محمود الحسن صاحب الہ آبادی بیان کرتے ہیں کہ میں حضور سرکارِ عالی کا ۱۹۲۴ء میں دستِ بیعت ہُوا۔ میں ڈرائیور تھا اور میرا افسر انگریز تھا۔ جس کا برادرِ نسبتی جو کراچی میں مقیم تھا وہ فالج کا مریض تھا ڈاکٹروں کے بورڈ کی رائے تھی کہ یہ فالج کا مریض اگر علاج کرائے تو سات سال میں ٹھیک ہو گا۔ میرے افسر نے مجھے کہا کہ محمود تم اپنے مرشد صاحب سے دُعا کراؤ کہ میرا بھائی تندرست ہو جائے میں نے دربار شریف پہنچ کر حضور سرکارِ عالی کی خدمتِ اقدس میں اپنے افسر کا پیغام حضور کو دیا سرکارِ عالی نے دُعا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تمہارے افسر کا بھائی آج سے بالکل تندرست ہے۔ میں جب حضورِ عالی سے اجازت لے کر واپس الہ آباد پہنچا تو میرے افسر نے بتایا کہ میرا بھائی بالکل تندرست ہو گیا ہے آپ کے پیر صاحب کی دُعا سے محمود جب اپنے پیر صاحب کے پاس جانا تو میری طرف سے شکریہ ادا کرنا۔
محمد اشرف حیات ہاشمی لاہور کے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور سرکارِ عالیؒ کی ۱۹۴۱ء میں بیعت کی تھی میں لاہور سے دربار شریف آیا ہُوا تھا۔ یہاں پر حضور سرکارِ عالی کے پاس ایک سکھ اور اسکی بیوی آئی اور دونوں بُہت روتے حضور پاکؒ نے ارشاد فرمایا کیا بات ہے کیوں زار و قطار رو رہے ہو۔ ان دونوں نے حضور پاک کو عرض کی کہ ہمارا ایک ہی لڑکا تھا جو بیمار ہو کر مر گیا ہے ہم دونوں اُس کو ایک کمرے میں بند کر کے قفل لگا کر آئے ہیں۔ آپ بھگوان سے کہ کر زندہ کرا دیں۔ جب تک لڑکا زندہ نہ ہو گا ہم یہاں سے نہیں جائیں گے حضور پاک نے صُوفی سکندر صاحب کو حکم دیا کہ ایک پانی کا کٹورا لاؤ صُوفی صاحب نے حکم کی تعمیل کی۔ حضور پاک نے پانی کے کٹورا سے ایک پانی کا چلو بھر کر اُوپر کی طرف پھینکا حیرانی کی بات ہے کہ پانی کے قطرے نیچے نہیں گرے ہوا میں غائب ہو گئے۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں