۶۷ از ۱۰۰
راقم الحروف کتاب ہذا کے حقیقی بھتیجا سیّد نیّر اقبال نے مجھے بتایا کہ ڈاکٹر ذوالفقار صاحب کی پھوپھی بیان کرتی ہیں کہ میں حضور سرکارِ عالیؒ کی خدمت میں حاضر تھی کہ ایک لڑکے کو پشاور سے اس کے ماں باپ لیکر دُعا کرانے کے لیے حضور کے پاس لائے حضور سرکار عالیؒ سے لڑکے کے ماں باپ نے کہا کہ حضور لڑکے کے جسم سے اس کی کھلڑی اس طرح اُترتی ہے۔ جیسے مچھلی سے چانے اترتے ہیں حضور پاک نے ایک پانی کا گلاس منگوایا اور اس میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا اور اس کے والدین سے ارشاد فرمایا کہ اس مریض لڑکے کے جسم پر پانی کے چھینٹے مارو والدین نے ایسا ہی کیا ابھی آدھا پانی اس کے جسم پر پڑا تھا۔ کہ اُس کا جسم بالکل تندرست ہو گیا گلاس کے باقی پانی کو حضورؒ نے مریض کے پینے کے لیے دے دیا مریض نے پانی پی لیا اور پھر کبھی اُس لڑکے کو ایسی شکایت نہ ہوئی۔
راقم الحروف "کتاب [ناخواندہ] الرحمان" کے حقیقی بھتیجا سیّد نیّر اقبال نے بتایا کہ ڈاکٹر ذوالفقار صاحب کی پھوپھی صاحبہ نے مجھے [ناخواندہ] مکرّم و معظم کی کرامت بتائی کہ میں نابینا ہو گئی تھی حضور کے پاس دُعا کے لیے آئی تو حضور کی دُعا سے میں بینا ہو گئی۔ لیکن بعد میں میرے اعتقاد میں فرق آ گیا اور میں پھر نابینا ہو گئی۔ میں پھر حضور کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی حضور نے دُعا فرمائی اور میری آنکھوں میں بینائی لوٹ آئی۔
میرے برادر اکبر بڑے صاحب کی زبانی
انبالہ میں ایک شخص کو حضور کے پاس لایا گیا۔ جس کی انتڑیاں پیٹ سے باہر نکلی ہوئیں تھیں اور وہ چلنے پھرنے سے معذور تھا اس لیے اس کے رشتہ دار اسے ایک ریہڑی پر بیٹھا کر لاتے تھے۔ حضور سرکار عالیؒ نے جب اس کی چیخ و پکار سُنی تو اندر سے باہر بیٹھک میں تشریف لے آئے اور اس کے لیے دُعا فرمائی۔ ربّ تعالیٰ نے آپ کی دُعا قبول فرمائی۔ حضور سرکارِ عالیؒ نے ارشاد فرمایا کہ چیخنے چلانے والے مریض اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرو۔ اُس نے حکم کی تعمیل کی اُسکے پیٹ کی انتڑیاں پیٹ کے اندر چلی گئیں
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں