۶۰ از ۱۰۰
ارشاد فرمایا بیٹا میرے پاس بیٹھ جاؤ۔ چنانچہ میں نے ارشاد کی تعمیل کی۔ پانچ منٹ کے بعد وُہ چھوٹی سی بدلی سارے آسمان پر پھیل گئی۔ پہلے بُوندا باندی ہوئی اور پھر زور دار بارش ہوئی حضور نے ارشاد فرمایا بیٹا اَب تو روزہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اسی طور پر ایک واقعہ بارش روکنے کا بھی ہے۔ میں اور میرا چھوٹا بھائی سید امجد علی شاہ صاحب گھر کے صحن میں سو رہے تھے اور ہمارے سرہانے سرکارؒ پاک اپنے تختِ مُبارک پر تشریف فرما تھے سرکار عالیؒ نے آواز دی بیٹا اُٹھو بارش بڑے زور کی آ رہی ہے۔ آپ کی اس آواز کی تصدیق میں ہمارے کان بھی بادل کی گرج سُن رہے تھے۔ ناز کے انداز میں ہم نے کہا ہم سو رہے ہیں کیا بادل دوسری جگہ نہیں برس سکتا۔ حضور نے ارشاد فرمایا۔ اے حاملینِ بارش جاؤ کسی اور جگہ جا کر بارش کرو چنانچہ بادل ہٹ گئے اور ہم آرام سے سوتے رہے۔ (مصنف کتاب ہذا)
خلیفہ ملک رفیق حسین فیصل آبادی بیان کرتے ہیں کہ ایک یوم سرکار عالیؒ مسند پر تشریف فرما تھے اور دستور کے مطابق تمام دُعا کرانے والے لوگ سرکاری بیٹھک میں بیٹھے تھے۔ اور ہر ایک سے فرداً فرداً حاجت سُن کر دُعا فرما رہے تھے۔ سب سے آخیر میں ایک شخص دیوار کے ساتھ لگا بیٹھا تھا اس سے ارشاد فرمایا کہ تو بتا کیا کام ہے۔ تو وُہ کھڑا ہو گیا۔ اس نے عرض کی کہ حضور میرے بتیس دانتوں میں پیپ پڑ گئی ہے۔ تمام مسوڑے پیپ سے بھر گئے ہیں۔ میرے منہ میں زبردست بدبو ہے۔ میں کھانا نہیں کھا سکتا اس پر آپؒ نے دُعا کے انداز میں ارشاد فرمایا کہ غریب نواز اس کو معاف کر دے اور فرمایا منہ پر ہاتھ پھیرو اس نے منہ پر ہاتھ پھیرا پھر حضورؒ نے فرمایا اَب دیکھ مسوڑوں میں پیپ ہے اس نے اپنے مسوڑوں کو انگلی سے دبایا اور حیرانی سے عرض کیا بالکل ٹھیک ہیں اور بدبو بھی نہیں ہے مسوڑے اسی طرح سے ہیں جیسے بیماری سے پہلے تھے ذرا سا تبسم فرما کر کہا دیکھی میرے رب کی کاریگری۔ خُدا کا شکر کرو۔
۱۹۴۷ء کا واقع ہے کہ شکر دین ولد اللہ دتہ ساکن منڈیر سیداں ملایا گیا ہُوا تھا۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں