۵۹ از ۱۰۰
میاں محمّد صدیق صاحب پارٹنر حاجی نظام الدین اینڈ سنز ٹینٹ [ناخواندہ] والے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور سرکار عالیؒ کے دستِ مبارک پر ۱۹۵۹ء میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔ جبکہ راقم الحروف کتاب ہذا کی رسمِ نکاح اور گیارہویں شریف کا عرس مقدس تھا۔ میاں صاحب ایک تقریب میں شمولیت کے لیے ٹیوٹا کار پر روانہ ہوئے بعد تقریب چھ بجے شام لائلپور (فیصل آباد) سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے تقریباً دس افراد اُس کار میں سوار تھے۔ گاڑی میں کچھ خرابی اور پٹرول کی رکاوٹ کے باوجود میاں صاحب کار چلاتے رہے اس خطرہ کے پیشِ نظر اپنی زبان پر سرکار عالیؒ کا ورد کرتے رہے تاکہ خیریت سے پہنچ جائیں جبکہ گاڑی لاہور سے اٹھارہ میل دُور تھانہ شرقپور کے قریب پہنچی تو کسی غیبی طاقت نے اُن کی گاڑی کا رُخ سڑک کی بجائے درختوں کے جھُنڈ کی طرف موڑ دیا اُس وقت کار کی رفتار ساٹھ میل فی گھنٹہ تھی۔ جیسے ہی کار کا رُخ موڑا کار شیشم کی لکڑی کے ٹکڑوں سے بُری طرح جا ٹکرائی (جو کہ محکمہ جنگلات والوں نے کاٹ کر اِدھر اُدھر پھینکے تھے) گاڑی کا تمام اگلا حصہ دائیں بائیں سب چکنا چُور ہو گیا۔ پھر کار ایک بڑے ٹکڑے سے ٹکرا کر ٹھہر گئی [ناخواندہ] دیر کی غنودگی کے بعد جب ہوش آیا تو معلوم ہُوا کہ گاڑی بالکل چکنا چُور ہو چکی ہے سرکار [ناخواندہ] مہربانی سے سب افراد بال بال بچ گئے۔ سب پر ذرا ذرا سی خراشیں آئی تھیں۔
ایک رمضان شریف کا واقعہ ہے کہ میں نے روزہ رکھا ہُوا تھا اور گرمی شدّت کی پڑ رہی تھی جس کی وجہ سے مجھ کو بہت پیاس لگی تھی میں ابا حضور عالیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا حضور عالیؒ اپنے خط کی اصلاح فرما رہے تھے میں نے عرض کی حضور دُعا فرمائیں کہ بارش ہو حضور نے ارشاد فرمایا کہ بارش کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ میں نے کہا اِسی لیے تو آپ کی خدمت میں عرض کیا ہے حضور نے ایک منٹ کے بعد ارشاد فرمایا بیٹا سیّد قبلہ کی جانب دیکھو تو کوئی بدلی ہے میں نے کہا حضور ایک چھوٹی سی بدلی قبلہ کی جانب ہے حضور نے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں