۵۴ از ۱۰۰
ایک دفعہ میرے بھائی جمعہ نے شیر محمّد صاحب سے کہا کہ اگر سرکار عالی حضرت محبوبِ ذات یہاں آئیں گے تو میں دربار شریف میں حاضری دوں گا۔ ایک روز الصبح حضور سرکار عالی حضرت محبوب ذات سفید گھوڑے پر شاہانہ لباس میں تشریف لائے اور دروازے پر دستک دی۔ جمعہ نے حضور کو دیکھا حیرانی سے قدم بوس ہو گیا اور پھر دربار شریف جا کر بیعت ہو گیا۔
خلیفہ سیّد نور حسین شاہ صاحب گوجرانوالہ کے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ اپنے مشاہدہ میں دیکھا کہ تین کرسیاں بچھی ہوئی ہیں۔ ایک کرسی پر حضور [ناخواندہ] حضرت محبوبِ ذات جلوہ افروز ہیں اور دوسری کرسی پر حضرت داتا گنج بخش [ناخواندہ] ہیں لیکن تیسری کرسی پر جو ہستی تھیں ان کو میں نہ پہچان سکا۔ یہ حضور سرکارِ عالی کی [ناخواندہ] تھی کہ مجھے دیدارِ پاک ہوا۔
بیگم بابو عطا محمّد صاحب بیان کرتی ہیں کہ ۱۹۳۵ء میں شب قدر کو ہم سب عبادت میں مشغول تھے۔ رات ۲ بجے کا وقت تھا کہ میں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا۔ [ناخواندہ] دیکھتی ہوں کہ ایک سونے کا بہت اونچا مینار کھڑا ہے جس کی طوالت زمین و آسمان پر محیط ہے۔ اس مینار سے ایک کھڑکی برآمد ہوتی ہے اور کھڑکی سے ایک نورانی چہرے کی زیارت ہوتی ہے (اس وقت میری عمر تقریباً ۱۳ برس تھی اور ابھی دربارِ عالیہ میں حاضر نہیں ہوئی تھی) میری سہیلیاں مجھے جھنجھوڑ رہی ہوتی ہیں کہ اُٹھو یہ وقت تو پانی کا دُودھ [ناخواندہ] تبدیل ہونے کا ہے۔ جب میں نے کافی عرصہ بعد سرکارِ عالی کی زیارت دربارِ عالیہ میں کی
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں