۴۶ از ۱۰۰
ایسی لاکھوں کرامات ہیں مگر طوالت کے ڈر سے ساری یہاں درج نہیں ہو سکتیں۔ کرامات روزانہ بارش کی طرح ہوتی تھیں۔ آپ کی فیض رسانی کا بحر ایسا تھا جس کا کوئی کنارہ ہی نہ ہو۔
(ناچیز شبیر محمد عفی عنہٗ)
۱ - حضور سرکار عالیؒ نے لاکھوں کرنگ (جو بچّہ ماں کے شکم میں سُوکھ جاتا ہے) ماؤں کے شکموں میں اپنی دُعا سے زندہ کئے۔ صرف ایک یہ عاصی ہی نہیں، حضور کے سینکڑوں مریدین اس کے عینی شاہد ہیں جن کی موجودگی میں حضور سرکار عالیؒ نے دُعا فرمائی اور کرنگ اسی وقت ہرے یعنی زندہ ہو کر شکمِ مادر میں متحرک ہو گئے۔
۲ - مُردہ دلوں کو زندہ کیا۔ تاریکی میں ڈوبے ہوئے کروڑوں دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کر کے زندہ کیا۔ مُردہ دل کو پتھر اور زندہ دل کو ولی کہتے ہیں۔ ایسے کروڑوں دلوں کو حضور پاکؒ نے ولی بنایا۔ جسم میں خون دوڑنے سے آدمی زندہ نہیں ہوتا بلکہ دل زندہ ہونے سے انسان زندہ ہوتا ہے۔
۳ - آپ نے کروڑوں خوابیدہ انسانوں کو پکّا نمازی بنا کر ان کے دلوں کو نورِ معرفت سے ممتاز فرما کر زندہ کیا۔ حضور پاکؒ نے لاتعداد غیر مذاہب کے لوگوں کے دِلوں کو زندہ کر کے مشرف با اسلام کیا۔
۴ - ۱۹۴۰ - ۴۱ء میں دربار شریف میں زائرین و طالبین کی رہائش اور قیام کے لئے کمرے زیرِ تعمیر تھے، اللہ دتہ کا لڑکا محمد اکرم بطور مزدور کام کرتا تھا، ایک شام وہ اگلے روز کے لیے گھانی (گارہ) بنانے کے لیے [ناخواندہ] ۱۵ فٹ گہرے گڑھے میں نیچے جا کر مٹی کے ایک بڑے تودے کو گرانے کی غرض سے اس کی جڑ میں کھدائی کر رہا تھا کہ اچانک، ایک بہت بڑا تودہ از خود اس کے اُوپر گر گیا۔ وہ مٹی کے نیچے دب
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں