۴۱ از ۱۰۰
ساتھ انہی کی زبان میں گفتگو فرماتے۔ سلطنتِ خداوندی کے باطنی اور ظاہری اراکین احکامات حاصل کرنے کے لیے حاضری دیتے۔ اَن گنت مست اور قلندر حاضر ہوتے اس وقت حضور پاک خاص الخاص استغراق میں ہوتے۔ چہرۂ اقدس پر نورانی رعب اور دبدبہ ہوتا۔ کسی کو آپ سے بات کرنے کی ہمت نہ پڑتی۔ اِسی دوران ایک قلندر نے زمین پر زور سے ہاتھ مار کر بآواز بلند پکار کر کہا تھا کہ حضور سرکار عالی ذی شان سیّد احمد حسین قدس سرہٗ محبوبِ ذات اور وقت کے بادشاہ ہیں۔ ہے کوئی اعتراض کرنے والا۔ اس وقت حضور سرکار عالی کی عمر مبارک چالیس برس کی تھی اس کے بعد آپ تئیس (۲۳) برس تک خلقِ خدا کی فیض رسانی پر معمور رہے۔
۶ - حضور سرکار ذی شان قدس سرہٗ نے اپنی ایک کرامت اِس عاصی کو خود سنائی۔ فرمایا کہ جبل پور میں ایک مرتبہ ملٹری اپریشن (مصنوعی جنگ) ہو گئی۔ رات کی تاریکی میں فوج کے ایک دستے نے دوسری بالمقابل فوج پر شب خون مارا۔ روشنی بند ہو گئی۔ تمام لوگ محفوظ جگہوں میں چُھپ گئے۔ دونوں طرف سے فائرنگ ہوتی رہی۔ کرنل صاحب جو راشن سپلائی کرنے کے انچارج تھے گھبرائے ہوئے (حضور پاک) میرے پاس آئے اور کہنے لگے راشن بالکل ختم ہے صبح فوج کو ناشتہ اور کھانا کیسے دیا جائے گا جس کا وہ خود جوابدہ تھا۔ شہر کافی دُور تھا۔ جنگ شروع تھی، تاریکی میں موٹر تو چل نہیں سکتی تھی پہاڑی علاقہ تھا کرنل اپنی بے بسی پر بہت ہراسان تھا اس کی حالتِ زار دیکھ کر مجھے ترس آ گیا۔ میں نے کرنل سے کہا بیٹھو گاڑی میں گاڑی میں خود چلاؤں گا۔ کرنل نے پوچھا۔ آپ ڈرائیونگ جانتے ہیں؟ کبھی پہلے گاڑی چلائی ہے؟ میں نے نفی میں جواب دیا جس پر کرنل اور زیادہ خوفزدہ ہو گیا۔ مجبوراً میرے برابر بیٹھ گیا۔ رات کی تاریکی میں پہاڑی علاقے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں