۴۰ از ۱۰۰
ارشاد فرمایا کہ میرے ایک پرانے دوست کے مقدّر میں سانپ کا ڈسنا لکھا تھا ہم نے سوچا کہ ہمارا دوست ہو سانپ اسے ڈسے! اُسی وقت ایک بھڑ کو حکم ہُوا کہ ابھی انکو ڈسے۔ مگر بھڑ کے ڈنک کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ صرف اس حکم کو جو پہلے سے تقدیر میں لکھا تھا اس طرح وارد کیا ہے۔ میں حلفاً عرض کرتا ہوں کہ نہ مجھے کوئی ورم ہُوا اور نہ ہی بھڑ کے زہر نے کوئی اثر کیا۔ سُوئی کے ناکے جتنا ڈنگ کا نشان ہاتھ پر موجود تھا۔
۴ - لنڈی کوتل قلعہ میں حضور سرکار ذی شان قدس سرہٗ کافی شاپ کے مینجر تھے۔ علی الصبح بیرونی گیٹ پر گورا فوج بندوقوں اور سنگینوں سے اس طرح سلامی دیتی تھی کہ دو طرفہ کھڑی فوج حضور پاک کی آمد پر بندوقیں اُوپر اُٹھا کر سنگینوں کے سرے ایک دوسرے سے ملا دیتی۔ اس طرح ایک پُل بن جاتا جس کے نیچے سے حضور پاک گزرتے۔ یہ سلامی باقاعدہ سات برس تک دی جاتی رہی جب تک آپ وہاں رہے سلامی دینے کا یہ فوجی طریقہ تھا مگر افسران اور فوجیوں کو علم نہ تھا کہ کس کے حکم کے تحت سلامی پیش کرتے ہیں حالانکہ حضور پاک ذی شان فوج کے رُکن نہ تھے۔
۵ - انبالہ چھاؤنی میں حضور سرکار عالی قدس سرہٗ سنہ ۱۹۳۶ء سے سنہ ۱۹۳۹ء تک خلقت کی فیض رسانی کے لیے قیام پذیر رہے۔ اس دوران ہزاروں لوگ روزانہ بارگاہِ عالیہ میں حاضر ہو کر فیض حاصل کرتے۔ ظاہری مخلوق کے علاوہ غیبی مخلوق نے لاکھوں کی تعداد میں حضور پاک کے دستِ حق پرست پر بیعت کی۔ بے شمار برگز[ناخواندہ] ہستیاں عالمِ نور سے ظاہری شکل میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتیں اور فیض حاصل کرتیں وہ گفتگو اپنی اپنی مروجہ زبان میں کرتے جس کو حاضرین سمجھ نہیں پاتے تھے۔ آپ کو دنیا کی تمام زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ آپ ان کے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں