۳۹ از ۱۰۰
آج سے تقریباً سینتالیس سال پہلے کی بات ہے کہ اِس ناچیز بندۂ عاصی کی ملازمت میں ایک الجھن پیدا ہو گئی جس سے ملازمت کے چلے جانے کا احتمال ہو گیا۔ سخت پریشانی کی حالت میں علامہ اقبالؒ کا یہ مصرعہ میرے ذہن میں گردش کرنے لگا۔
"نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں"
الغرض مشکل کشائی کے لیے حضور سرکارِ عالی حضرت محبوبِ ذات کی بارگاہ میں حاضری دی۔ چار دن قبل مجھے حضور سرورِ کائنات محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت ہوئی تھی اب جب یہاں آلِ محمدؐ کی روشن تصویر دیکھی تو حالت بدل گئی۔ ذہنی سکون حاصل ہوا۔ تمام کمرہ خوشبو سے معطّر تھا۔ چہرۂ مقدس پر انوار و تجلیات کا ورود تھا۔ دلآویز مخصوص تبسم ہونٹوں پر تھا۔ رعب و دبدبہ کا یہ عالم تھا کہ خاموشی میں دل کی دھڑکنیں سُنی جا سکتی تھیں۔ یہ کیفیات احادیث میں بیان ہو چکی ہیں۔ جب تکلّم فرماتے تو اخلاقِ محمدی کا نمونہ محسوس ہوتے۔ کلام میں ایسی شیریں زبانی کہ قربان ہونے کو دل چاہتا تھا۔
مخاطب کر کے حاضر ہونے کا مقصد دریافت فرمایا۔ عرض کی حضور مجھے اپنی غلامی میں لے لیں۔ آپ نے فرمایا جس مقصد کے لیے آئے ہو پہلے اُس کی دعا کراؤ۔ تاکہ تمہاری مشکل حل ہو اور بیعت کے لیے کسی مردِ کامل کو ڈھونڈو۔ میں بزرگ نہیں اسلام کا ادنی خادم اور سپاہی ہوں۔ یہ میرے جسم پر قرآن مجید اور تلوار آویزاں اسی چیز کی نشانی ہیں۔ میرے دل سے آواز نکلی یہیں جھک جاؤ۔ میں نے دست بستہ عرض کی کہ آپ کو دیکھ کر دونوں جہانوں کی رحمتیں میسّر آ گئی ہیں۔ مجھے اب دنیاوی پریشانی ہیچ نظر آتی ہے۔ آپ نے مخصوص دلربا تبسّم کے ساتھ ارشاد فرمایا۔ کچھ دیر ٹھہرو اور میرے متعلق اپنے دل سے استفسار کرو۔ صبح مجھے جواب بتانا۔ مجھے القا منجانب اللہ ہوا۔ دل نے فتوے دیا کہ یہی منزل ہے اور یہ آواز
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں