۳۸ از ۱۰۰
مریض کے لیے انتہائی مضر تصوّر کیا جاتا ہے۔ وُہ اسی بارش میں بھیگتی سمبڑیال تک پیدل واپس گئی اور تقریباً چار پانچ میل کے پیدل سفر سے اُسے قطعی کوئی تھکان نہیں ہُوئی۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ تپدق کا ایک ایسا مریض جو چلنے پھرنے سے بھی عاجز ہو اتنی جلدی اِس قابل ہو سکتا ہے۔ کہ چار پانچ میل پیدل سفر کرے۔ اور وُہ بھی بارش میں آپ خُود ہی فرمائیں کہ یہ اگر کرامت نہیں تو اور کیا ہے۔
ماسٹر عنایت صاحب بیان کرتے ہیں حضور سرکارِ عالیؒ سنہ ۱۹۳۵ء میں انبالہ شریف تشریف رکھتے تھے آپ کا یہ معمول تھا کہ ہر روز نمازِ عصر چھوٹی مسجد میں ادا فرماتے اور سرکارِ عالیؒ کے ہمراہ کافی آدمی ہوتے مسجد کے راستے میں ایک بیر بہوٹی ([ناخواندہ]) کسی آدمی کے پاؤں تلے آ کر مر گئی حضورؒ وہاں کھڑے ہو گئے پھر اکڑوں بیٹھ گئے اور مخاطب بیر بہوٹی سے ہو کر ارشاد فرمایا اُٹھ کر چل میں نے نماز پڑھانی ہے۔ یہ سُنتے ہی بیر بہوٹی اُٹھ کر چل پڑی اور آپ مسجد میں نماز پڑھانے کے لیے تشریف لے گئے۔
ماسٹر صاحب نے ایک واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ حضورؒ جس محلہ میں رہتے تھے وہاں ایک مائی فوت ہو گئی حضور اُس کے جنازہ کو کندھا دیتے ہُوئے دو میل قبرستان گئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور دفن کر کے قبرستان کے دروازہ پر پہنچے تو ایک مولوی صاحب نے آپ کو پان پیش کیا آپ نے فرمایا ہم تازہ وضو کریں گے تو تب کوئی چیز کھائیں گے۔ مولوی صاحب زیرِ لب ہنسے حضورؒ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ مولوی صاحب لوٹ پوٹ ہو کر زمین پر گر پڑے۔ حضور سرکار عالیؒ نے ایک پانی کا گلاس منگوا کر پانی کے چھینٹے مولوی صاحب پر مارے اور ٹھیک ہو گئے۔
واپسی پر حضور کے لیے ایک مُرید نے یکّہ پیش کیا کہ آپ سوار ہو کر آرام سے گھر پہنچ جائیں لیکن آپ نے یہ کہتے ہُوئے واپس کر دیا کہ کیا سب کے پاس یکّے ہیں ماسٹر صاحب نے چھتری کا سایہ کرنا چاہا آپ نے فرمایا کیا سب کے پاس چھاتے ہیں۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں